23 مارچ یوم جمہوریہ یا یوم پاکستان(حقائق)

 


برصغیر کی تقسیم کے بعد ہندوستان نے اپنا پہلا آئین دو سال کے اندر بنایا جو 26 جنوری 1950 کو نافذ العمل ہوا اور ہندوستان نے اس دن کو یوم جمہوریہ سے منسوب کیا اور ہنوستان میں آج بھی وہی آئین نافذالعمل ہے،شومئے قسمت کہ 

پاکستان میں آئین سازی کا عمل 1956ء میں مکمل ہوا،اس کی کئی وجوہات تھیں اگر آئین سازی وقت پر ہوتی تو یقینن پاکستان موجودہ سیاسی بحرانوں کا قطعًا شکار نہ ہوا ہوتا ہمارے جمہوری ادارے مضبوط ہوتے ، وزیرِ اعظم چوہدری محمد علی نے گورنر جنرل سے پہلے  آئین کی باقاعدہ منظوری کے لیے تاریخ مانگی، گورنر جنرل نے 23 مارچ کا دن چنا،پاکستان کے پہلے آئین میں گورنر جنرل کا عہدہ ختم کرکے صدر مملکت کا عہدہ متعارف کروایا گیا ۔

 1940ء سے لے کر 1947ء تک اور آزادی کے بعد کے بعد بھی 23 یا 24 مارچ کا دن سرکاری طور پر منایا نہیں جاتا تھا اور نہ ہی تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر میں تعطیل ہوا کرتی تھی۔


گورنر جنرل کی جانب سے 23 مارچ کا دن اتفاقاً چُنا گیا، اس دن کے چنے جانے پر وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا اور اسے یومِ جمہوریہ یا ری پیلک ڈے کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا، کابینہ کے اجلاس میں اس روز کے فیصلوں میں قراردادِ لاہور یا قراردادِ پاکستان کا ذکر نہ تھا۔


1956ء کے بعد 1957ء اور 1958ء کو بھی 23 مارچ یومِ جمہوریہ کے طور پر منایا گیا، جب اکتوبر 1958ء میں ڈکٹیٹیر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے مارشل لا کے بعد آئندہ برس کا 23 مارچ کا دن نزدیک آنے لگا تو کابینہ نے فیصلہ کیا کہ اس دن کو یومِ جمہوریہ کی بجائے یومِ پاکستان کے طور پر منایا جائے گا، یہ  ضرورت اس لیے پیش آئی کہ مارشل لا کے نفاذ کے بعد 1956ء کا پارلیمانی آئین منسوخ ہو چکا تھا اور نئے آئین کے مسودے پر کام جاری تھا۔

ان دنوں 14 اگست یومِ پاکستان کے طور پر منایا جاتا تھا، فیصلہ ہوا کہ 23 مارچ کو یومِ پاکستان اور 14 اگست کو یومِ آزادی کے عنوان سے موسوم کیا جائے، گو چند سال کے بعد مارشل لا اٹھا لیا گیا جبکہ 1962ء میں دوسرے آئین جو صدارتی نظام پر مبنی تھا اور بعد ازاں 1973ء کے موجودہ پارلیمانی آئینِ پاکستان کے تحت پاکستان جمہوریہ رہا، مگر 23 مارچ کا دن یوم جمہوریہ کی بجائے یومِ پاکستان کے طور پر منایا جاتا رہا۔

یوم جمہوریہ کو اب قراردار لاہور جسے قرارداد پاکستان بھی کہتے ہیں سے منسوب کرکے حقائق کو چھپایا گیا

(انعام اللّٰه برڑو)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

روزي جا مسائل

تحریک آزادی کی تاریخ ساز شخصیت ’’مولانا تاج محمود شاہ امروٹی‘‘

مصلح ملت مولاناعبدالکریم قریشیؒ سابق مرکزی امیر جمعیت علماء اسلام پاکستان