اشاعتیں

دسمبر, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

متن منشور الوصيت و دستور الحڪومت از ميان نور محمد ڪلهوڙو واليء سنڌ مترجم ڊاڪٽر عبدالرسول قادري

  متن   منشور الوصيت و دستور الحڪومت     از ميان نور محمد ڪلهوڙو واليء سنڌ   بسم الله الرحمـ ٰ ـن الرحيم o رب يسر و تمم بالخير ] مقدمو ۽ تاليف جو سبب [ حمد ۽ ثنا خاص خالق کي ج ُ ڳائي، جو آسمانن ۽ زمينن جو پالڻهار آهي، صلواة ۽ سلام خاص منهنجي سردار کي سونهين ِ ، جيڪو سرور ڪائنات ۽ مفخر موجودات آهي ۽ سندن آل ۽ اصحابن تي به رحمتون هجن! حمد ۽ صلواة کانپوءِ پيارن ۽ دوستن کي معلوم هجي، ته هن گنهگار کي - جنهن وٽ چڱن ڪمن ۽ خدا جي فرمان برداريءَ جو ڪوبه سرمايو ڪونهي - ڪي خيال پدري شفقت ۽ فرزندي محبت جي ڪري دل ۾ گذريا، ته پياري حياتي اچي پڇاڙيءَ کي پهتي آهي ۽ قيامت جون نشانيون ڏينهون ڏينهن ظاهر ٿي رهيون آهن ۽ زمانو به آخري آهي، تنهنڪري پنهنجن پٽن ۽ ڀاڳوندن کي زماني جي لاهن چاڙهن جي معلومات ڏجي ٿي، ته جيئن اهي آگاهه رهن ۽ دل کي دنيا ڪميڻي کان پاسيرو رکن ۽ بارگاهه الاهيءَ ڏانهن ڌيان ڌري توجهه ڏين. جيتوڻيڪ مون ۾ عمل ڪونهي، پر رسول مقبول - ان تي صلواة ۽ سلام هجي! - جي فرمان موجب ”الدين نصيحة“  يعني دين نصيحت آهي، تي عمل ڪندي، خير خواهيءَ جون ڳچ نصيحت ڀريون ڳالهيون بيان ڪ...

مصلح ملت مولاناعبدالکریم قریشیؒ سابق مرکزی امیر جمعیت علماء اسلام پاکستان

سندھ کے عظیم روحانی پیشوارامام الاتقیاء امیر العلماء مجاہد فی سبیل اللہ مولانا عبدالکریم قریشی رحمۃاللہ علیہ امیر جمعیت علماء اسلام پاکستان پیدائش 1923 وفات1999 ستمبر1923ء میں حضرت مولانا عبدالکریم قریشی بیر شریف تحصیل قنبر ضلع لاڑکانہ میں پیدا ہوئے ۔ والد کا اسم گرامی حضرت مولانا محمد عا لم قریشی اور دادا کا اسم گرامی حضرت مولانا محمد عبداللہ قریشی تھا۔ بیر شریف میں یہ خاندان کئی پشتوں سے علم و فضل کا نشان تھا۔ ابتدائی تعلیم مولانا عبدالکریم قریشی نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی حضرت مولانا محمدعالم’’ ہٹی گائوں‘‘ کے مولانا محمد ایوب گوٹھ لاکھا کے مولانا تاج محمود مگسی گھورو پہوڑ کے میر بخش بھٹو سے حاصل کی ۔ پھر حضرت مولانا عبیدا للہ سندھی کے علوم کے وارث حضرت مولانا غلام مصطفی قاسمی صاحب سے پانچ سال میں تکمیل کی ۔ گھوٹگی اور دیگر مقاما ت پر جہاں جہاں مولانا غلام مصطفی قاسمی تعلیم دیتے رہے آپ ان کے ہمراہ رہے ۔ تحریک ختم نبوت تحریک ختم نبوت 1953ء میں اپنے شیخ حضرت ہالیجویؒ کے ہمراہ سکھر کی عظیم الشان کانفرنس میں شرکت کی۔ ہزاروں بندگان خدا کو دن رات ایک کر کے تحریک سے وابستہ کر دیا۔ تح...

تحریک آزادی کی تاریخ ساز شخصیت ’’مولانا تاج محمود شاہ امروٹی‘‘

تصویر
  قیامِ پاکستان سے قبل سندھ کے کچھ تاریخی، سیاسی اور و مذہبی کردار ایسے ہیں جنہوں نے اپنی پوری حیات دینِ اسلام اور انسانیت کی خدمت کے لئے وقف کردی۔ اپنی زندگی میں عیش و آرام کو ٹھوکر مارکر اپنی خواہشات کو ختم کرتے ہوئے ہمیشہ دین کی سربلندی اور عام لوگوں کی بھلائی اور فلاح و بہبود کی خاطرکوشاں رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج لوگ انہیں نہ صرف اچھے الفاظ میں یاد رکھے ہوئے ہیں بلکہ ان کے بتائے ہوئے اصولوں پرکاربند رہ کر زندگی بسر کررہے ہیں۔ایسے ہی لوگوں میں ضلع شکارپور کی تحصیل گڑھی یاسین کے علاقے امروٹ شریف کے جیدعالمِ دین اورسیاسی، سماجی و مذہبی رہنماحضرت مولانا سیدتاج محمود شاہ امروٹی بھی تھے۔ مولانا تاج محمود28 ذوالقعد 1260ھ بمطابق 8دسمبر1844ء میں روہڑی کے قریب گاؤں دیوانی میں پیدا ہوئے۔انہوں نے بنیادی تعلیم اپنے والد بزرگوار عالم دین مولانا سید عبدالقادر شاہ عرف سائیں بھورل شاہ سے حاصل کی، جبکہ عربی اور فارسی کی مکمل تعلیم وتربیت روہڑی کےجید عالم آخوند حاجی عبدالقادر پنہواری سے حاصل کرنے کے بعد عملی زندگی میں داخل ہوئے۔ وہ اپنے والد کی دیانت داری، دین داری اور خدمتِ انسانی سے بے حد متاث...

قرارداد پاکستان،3مارچ 1943 سندھ اسیمبلی

  3 مارچ 1943 ء کو منظور ہونے والی اس قرارداد پاکستان کا اصل متن انگریزی میں ہے، جس کا ترجمہ مندرجہ ذیل ہے : ”یہ ایوان، سرکار کو سفارش کرتا ہے، کہ قابل احترام وائسرائے ہند کے توسط سے بڑی سرکار (برطانوی تاج) تک اس صوبے کے مسلمانوں کے جذبات اور اس خواہش کو پہنچایا جائے، کہ: جیسا کہ مسلمانان ہند، اپنے مذہب، فلسفے، سماجی رسومات، ادب، روایات اور اپنے خالص سیاسی اور اقتصادی نظریات کے لحاظ سے، ایک الگ قوم ہیں، جن کے یہ تمام اوصاف، ہندوؤں کے خصائل سے یکسر مختلف ہیں، جس کی بنیاد پر یہ (مسلمانان ہند) ایک جداگانہ، علیحدہ قوم کی حیثیت میں، ایک آزاد ریاست حاصل کرنے کا حق رکھتے ہیں، جو ریاست، ہندوستان اور برصغیر کے ان علاقہ جات پر مشتمل ہو، جہاں مسلمانوں کی آبادی کی اکثریت بستی ہے۔ اس لیے، یہ (اس خطے کے مسلمان) پرزور انداز میں اعلان کرتے ہیں، کہ ایسا کوئی بھی آئین ان کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا، جو مسلمانوں کو کسی ایسی مرکزی حکومت کے زیر دست رکھے، جو (حکومت) کسی دوسری قوم کے زیر اثر ہو۔ اس لیے آنے والے واقعات کی ترتیب میں ان (مسلمانوں ) کے لیے اپنی الگ آزاد ریاستوں کا ہونا ضروری ہے، جہاں وہ اپنے...